جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام کو جائز قرار دینے کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اٹھارہ کروڑ محب وطن عوام اور وکلاء کی لازوال جدوجہد کے نتیجہ میں ملنے والی آزادی کو نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ،بنیادی انسانی حقوق کے خلاف پارلیمنٹ کو ترمیم کی اجازت دینا آئین کی روح مسخ کرنے کے مترادف ہے ،پاکستانی قوم اور وکلاء 6اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائے ۔
المرکز الاسلامی چنیوٹ بازار میں وکلا کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو تباہ کرنے کے لیے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عریانی و فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیاجارہا ہے جس سے بے راہ روی پھیل رہی ہے اور نوجوان نسل گمراہی کے راستے پر گامزن ہے۔ ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان اس لیے حاصل نہیں کیا تھاکہ یہاں االلہ اور رسول ؐ کے احکامات کا مذاق اڑایا جائے ۔ مغربی اور صہیونی لابی کے فنڈز پر پلنے والی این جی اوز کو اسلام مخالف پراپیگنڈے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے جو دن رات مختلف ٹی وی چینلز پر اسلامی احکامات کی من پسند تشریحات کر کے نوجوان نسل کو گمراہی کے راستے پر چلارہی ہیں کفر کی طاقتیں مسلمانوں کی تہذیب اور اسلامی شعائرختم کرنا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب قوم کو اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرلینی چاہیے ۔ 68 سال سے برسراقتدار طبقے نے انہیں محرومیوں ، مایوسی اور بھوک ننگ کے سوا کچھ نہیں دیا ۔اب حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور اس کی جگہ اسلام کا منصفانہ و عادلانہ نظام رائج کیاجائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں