جمعرات، 13 نومبر، 2014

پاکستان کو بچانے کے لیئے محب وطن وکلاء کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ,جماعت اسلامی کے ضلعی امیرسردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ کا اسلامک لائرز موومنٹ کے اجلاس سے خطاب

جماعت اسلامی کے ضلعی امیرسردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وکلاء پاکستان میں چلنے والی ہر تحریک کا ہراول دستہ رہے ہیں،آج ایک بار پھر قیام پاکستان کے جذبوں کو زندہ کرنے کا وقت آگیا ہے، پاکستان کو بچانے کے لیئے محب وطن وکلاء کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ، جماعت اسلامی 21 نومبر سے مینار پاکستان سے تحریک تکمیل پاکستان کا آغاز کر رہی ہے۔نئے پاکستان کی بجائے اسلامی اور خوشحال پاکستان بنانے اور تحریک تکمیل پاکستان کو کامیاب کرنے کے لئے وکلاء سراج الحق کا ساتھ دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی چنیوٹ بازار میں اسلامک لائرز موومنٹ کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سنیئر وکلاء چوہدری حبیب الرحمان ایڈووکیٹ،زاہداکرام ایڈووکیٹ،رانامحمود الحسن ایڈووکیٹ سمیت نوجوان وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سردار ظفر حسین خان نے فیصل آباد میں ہائی کورٹ کے بنچ کا قیام کے مطالبہ کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف وکلا کا مطالبہ نہیں بلکہ فیصل آباد کے ہر شہری کے دل کی آواز ہے جسے کسی صورت رد نہیں ہونے دیا جائے گا۔جماعت اسلامی فیصل آباد میں ہائی کورٹ کے بنچ قیام کے لئے وکلاء اور سول سوسائٹی کے مل کرمشترکہ جدوجہد کرے گی ،فیصل آباد کی تمام سیاسی ،سماجی،تاجر اور دیگر تنظیمیں متحد ہو جائیں اور ان ارکان اسمبلی کا بھی گھیراؤ کریں جو اس بنچ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔اگر حکمرانوں نے اس اہم عوامی مسئلہ کے حل میں سنجیدگی نہ دیکھائی تو خود ان کے بھی اس کے نتائج بھگتا پڑیں گے۔ جماعت اسلامی کی کارکن وکلاء کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ شریک رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی تاریخ ہے کہ ہر دور میں اس کے اندر حق کا جھنڈا بلند کرنے والے لوگ موجود رہے ہیں اور جماعت اسلامی بھی آج حق کا جھنڈا بلند رکھنے کی جدو جہد کر رہی ہے، ہم اپنے حکمرانوں سے بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان چار صوبوں ،پہاڑوں اور زمین کا نام نہیں بلکہ ایک عقیدے اور نظریے کا نام ہے اور اس کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے ۔انہو ں نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان اس لیے حاصل نہیں کیا تھاکہ یہاں االلہ اور رسول ؐ کے احکامات کا مذاق اڑایا جائے ،اب قوم کو اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرلینی چاہیے ۔75 سال سے برسراقتدار طبقے نے انہیں محرومیوں ، مایوسی اور بھوک ننگ کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ انہوں نے کہاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور اس کی جگہ اسلام کا منصفانہ و عادلانہ نظام رائج کیاجائے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں