اتوار، 18 جنوری، 2015

جماعت اسلامی کے ضلعی امیرسردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ کا المرکز الاسلامی چنیوٹ بازار میں ضلعی شوریٰ اور امرائے ضلع کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

جماعت اسلامی کے ضلعی امیرسردار ظفر حسین خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مغرب نے نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی اورپیرس میں ملین مارچ کرکے امت کی غیرت کو للکارا ہے، امت مسلمہ کے حکمرانوں نے بے غیرتی کی چادر اوڑھ لی ہے، جماعت اسلامی نے اس چیلنج کا جواب دے گی، اگر پیرس میں ملین مارچ ہوسکتا ہے تو ہم لاہور ،کراچی اور اسلام آباد میں اگلے اتوار کو ملین مارچ کریں گے، جماعت اسلامی نے 2015 کو رابطہ عوام مہم کا سال قرار دے کربڑے پیمانہ پرممبرسازی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ،ملک بھر سے ایک کروڑ لوگوں کو جماعت
کاممبربنایا جائے گا ۔ رابطہ عوام مہم میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر نوجوانوں ،کسانوں اور محنت کشوں کے بڑے بڑے کنونشن منعقد کئے جائیں گے ۔یوتھ پالیسی کے تحت دس لاکھ نوجوانوں کو جماعت میں شامل کیا جائے گا، ملک بھر سے اقلیتوں پر مشتمل پاکستانی برادری کو بھی جماعت میں شامل کرکے ان کا علیحدہ ونگ قائم کیاجائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی چنیوٹ بازار میں ضلعی شوریٰ اور امرائے ضلع کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے سوئی گیس اور بجلی کے بعد پٹرول کے بحران پر شہریوں کی پریشانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکمرانوں کی بد انتظامی اورناقص پالیسی کی وجہ سے عوام گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر سو روپے فی لیٹر پٹرول حاصل کرنے پر مجبور ہیں بجلی اورسوئی گیس کے بعد پٹرول کو بھی عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیاہے، پٹرول اور سی این جی کی عدم دستیابی سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کی طرف سے پٹرول پرحکومتی ناکامی کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان خوش آئند ہے۔ انہوں نے سوئی کی بندش پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی ملیں چلانے کے لئے عوام کے چولہے بجھا دیئے،بجلی کے بعد عوام سے گیس کی سہولت بھی چھین لی گئی،عوام کو گیس نہ ملی تو حکمرانوں تک بھی نہیں پہنچنے دیں گے،گیس بحال نہ کی گئی تو ہزاروں شہریوں کے ہمراہ سوئی گیس کے دفاتر کا گھیراؤ کر کے دھرنادیں گے اور گیس کی بحالی تک نہیں اٹھیں گے، اب عوام نہیں حکمرانوں کو قربانی دینا ہوگی، عوام کو سبز باغ دکھانے والے انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے سکے، حکمرانوں نے شرمناک رویہ اپنا رکھا ہے ۔ انہیں عوام کے مفادات کا کوئی خیال نہیں۔گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے انہیں نفسیاتی امراض میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے۔ حکمرانوں نے شرمناک رویہ اپنا کر بے حسی کی انتہا کر دی ہے ۔ ملک بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اور معاشی بحران سیاسی بحرانوں میں بدلتے دیر نہیں لگتی ۔جب لوگوں کی امید یں محرومیوں میں بدلتی ہیں تو ان کے تیور بھی بدل جاتے ہیں ،زندہ باد کے نعرے لگانے والے مردہ باد کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔حکمران حالات پر جلد قابو پانے میں ناکام رہے تو لوگ مرنے مارنے پر تل جائیں گے ۔ موجودہ حکومت تیزی سے عوامی حمایت کھورہی ہے۔ خوشنما نعروں اور بلند وبانگ دعوؤں پر ووٹ دینے والے بددل اور مایوس ہوکر حکومت کا ماتم کر رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں